مہر خبررساں ایجنسی کے مطابق، روزنامہ فنانشل ٹائمز نے بتایا ہے کہ امریکہ کی بڑی کمپنیاں کانگریس کی جانب سے تحقیقات کی ایک نئی لہر کے لیے خود کو تیار کر رہی ہیں، کیونکہ وسط مدتی انتخابات کے بعد کانگریس اور سینیٹ کا کنٹرول حاصل کرنے والے ڈیموکریٹس، اس بات کا جائزہ لینے کا ارادہ رکھتے ہیں کہ آیا ٹرمپ حکومت نے کمپنیوں کو خصوصی مراعات دی ہیں اور صدر کے خاندان نے اس سے مالی فوائد حاصل کیے ہیں یا نہیں۔
رپورٹ کے مطابق، کانگریس اور سینیٹ میں ڈیموکریٹس کی کامیابی ٹرمپ حکومت کے لیے ایک اور ہنگامہ خیز دور کا آغاز کرے گی۔ کمپنیوں کے سربراہان نے امریکی صدر کی پالیسیوں کا خیرمقدم کیا تھا، تاہم خارجہ پالیسی اور تجارت کے شعبوں میں ان کے فیصلوں پر تنقید بھی کی تھی۔
قانونی ادارے ہالینڈ اینڈ نائٹ (Holland & Knight) میں کانگریسی تحقیقات کی ٹیم کے ایک سربراہ کرسٹوفر آرمسٹرانگ نے کہا کہ اگلی کانگریس کی تمام تر توجہ تحقیقات اور نگرانی پر مرکوز ہوگی۔
مختلف کمپنیوں کے وکلاء نے ڈیموکریٹس کی ممکنہ تحقیقات کے لیے تین بنیادی موضوعات کی نشاندہی کی ہے:
ٹرمپ حکومت کے پہلے دو برسوں کے دوران وائٹ ہاؤس کے عہدیداروں اور ٹرمپ خاندان کے افراد کی ممکنہ کرپشن
حکومت کی جانب سے کمپنیوں کو خصوصی مراعات دینا
اور زندگی کے اخراجات جیسے معاملات سے متعلق سیاسی امور
کرپشن کے الزامات انتخابی مہمات کے اہم موضوعات میں شامل ہو چکے ہیں۔ سرکاری دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹرمپ نے ۲۰۲۵ء میں وائٹ ہاؤس واپس آنے کے بعد سے ذاتی طور پر 2.2 ارب ڈالر سے زیادہ آمدنی حاصل کی ہے۔
اس کے علاوہ، جن کمپنیوں کی سرپرستی صدر کے بیٹے کرتے ہیں، انہیں بھی وفاقی حکومت کی جانب سے نمایاں حمایت حاصل ہوئی ہے۔
قانونی ادارے کولی (Cooley) میں کانگریسی تحقیقات کے شعبے کی سربراہ سوزن ساکسمن گرومز نے کہا کہ ڈیموکریٹس کے لیے اہم معاملہ رقم کی واپسی ہے۔ وہ واقعی یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ وہ ان لوگوں کے مسائل حل کر رہے ہیں جنہوں نے انہیں ووٹ دیا ہے اور یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ وہ ٹیکس دہندگان کی رقم واپس دلوا سکتے ہیں۔
آپ کا تبصرہ